الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ . باب: دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5833
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔
وضاحت:
فوائد: … کنکری کی بیع کی کئی صورتیں ہیں: (۱)فروخت کنندہ، خریدار سے کہے: جب میں کنکری پھینکو ں گا تو تجارت طے ہوجائے گی۔ (۲) خریدار کہے: میں کنکری پھینکوں گا، وہ جس کپڑے کو لگ جائے گی، وہ اتنی قیمت میں میرا ہو جائے گا۔ (۳) اسی طرح ہر وہ سودا جہالت کی وجہ سے اسی قسم میں شامل ہو گا، جس کی بنیاد کنکری پر ہو گی، مثلا زمین کے سودے میں فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ وہ کنکری پھینکے گا، وہ جہاں تک پہنچے گی، اتنی زمین کا سودا اتنے میں ہو جائے گا، علی ہذا القیاس۔