الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ . باب: دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5831
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لاچاروں کی تجارت کی دو صورتیں ہیں: (۱)بندے کو کوئی چیز خریدنےیا بیچنے پر مجبور کر دیا جائے، یہ بیع فاسد ہو گی اور منعقد نہیں ہو گی۔ (۲) بندے کو کسی قرضے یا کفالت کی وجہ سے بیع کرنا پڑے، مثلا قرض خواہ اپنے قرض دار سے کہے کہ تو نے مجھے جو قرضہ دیناہے، اس کے عوض مجھے فلاں چیز بیچ دے، اس صورت میں قرض خواہ کی مرضی چلے گی اور قرض دار کو خسارہ اٹھانا پڑے گا۔