حدیث نمبر: 5828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَقَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَبْتَاعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبْلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … حَبْلَ الْحَبْلَۃِ (حمل کا حمل): اس کی تین مشہور تفسیریں ہیں: (۱)آدمی کا اس شرط پر اونٹنی خریدنا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا، جب اونٹنی بچہ جنے گی، پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ آگے ایک بچہ جنے گا۔ (۲) مادہ کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ پیدائش کے بعد جوان ہو کر جو بچہ جنے گا اس کی بیع کرنا۔ (۳) اس قیمت پر جانور دینا کہ یہ جو بچہ جنے گا، اس کا بچہ اس کو دینا ہو گا۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6437»