الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ . باب: دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5827
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبْلِ حَبَلَةٍ وَحَبْلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهَا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچی یا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔