الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5825
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فِحْلَةَ فَرَسِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو نر گھوڑے کی جفتی کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری د و احادیث سے معلوم ہوا کہ سانڈ کا مالک اس کی جفتی کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔