الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5823
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک مہاجر صحابی رسول کہتے ہیں: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین غزوات میں شریک ہوا اور آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِیْ ثَلَاثٍ: فِی الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ۔)) (ابوداود: ۳۴۷۷، ابن ماجہ: ۲۴۷۲) … ’’مسلمان تین چیزوںپانی، آگ اور گھاس میں شریک ہیں۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ’’تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔‘‘
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ’’تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔‘‘
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)