الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5822
عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ضرورت سے زائد پانی فروخت نہ کیا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگ تو دریائے فرات کا پانی فروخت کرنے لگ گئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ نے ایسی صورت دیکھی ہو کہ لوگ بغیر اجرت اور مشقت کے فرات سے پانی بھرکر لاتے ہوں، پھر ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرتے ہوں، پھر انھوں نے ان لوگوں کو اس طرح کرنے سے یہ حدیث بیان کی ہو۔