الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5821
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ فَيَهْزُلَ الْمَالُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ زائد پانی فروخت کرو اور نہ گھاس کو ممنوع قرار دو، وگرنہ مویشی کمزور ہو جائیں اور اہل و عیال بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’فَیَہْزُلَ الْمَالُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مویشی کمزور پڑجائیں اور اس طرح ان کا دودھ کم پڑ جائے گا، جس کے نتیجے میں لوگ بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔