الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ باب: وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے جیسے نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ولاء کی خرید و فروخت بھی نہیں کی جا سکتی۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔