الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَفَضْلِ الْمَاءِ وَعَسْبٍ الْفَّحْل باب: کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5818
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَأَكْلُ أَثْمَانِهِنَّ حَرَامٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گانے والیوں کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی تجارت اور ان کی قیمت حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی لونڈی کو لونڈی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ گانے والی کی حیثیت سے فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت ناجائز ہو گی، اس تجارت کا انحصار نیت پر ہو گا۔