الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَفَضْلِ الْمَاءِ وَعَسْبٍ الْفَّحْل باب: کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5812
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے، ما سوائے سد ھائے ہوئے شکاری کتے کی قیمت کے۔
وضاحت:
فوائد: … شواہد سمیت اس حدیث اور درایت کا تقاضا یہ ہے کہ شکاری کتے کی قیمت لینا جائز ہے، کیونکہ مختلف احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتا پالنا جائز ہے اور دوسری مباح چیزوں کی طرح ایسی چیز کی قیمت جائز ہوتی ہے، جیسا کہ امام ابو جعفر طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۲۲۵۔۲۲۹) میں اس مسئلہ کی تحقیق پیش کی ہے، آپ کو چاہیے کہ اس کا مراجعہ کر لیں، وہ اہم بحث ہے۔