الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَفَضْلِ الْمَاءِ وَعَسْبٍ الْفَّحْل باب: کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ قَالَ فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حرام ہے، جب کوئی کتے کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لیے آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دے۔
وضاحت:
فوائد: … یہاں مٹی سے مراد محرومی اور ناکامی ہے، یعنی کتے کی قیمت لینے والے کو کچھ نہ دیا جائے۔