حدیث نمبر: 5807
عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الْشَّامِ وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزِّقَاقِ يُرِيدُ بِهَا التِّجَارَةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُكَ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا كَيْسَانُ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ قَالَ أَفَأَبِيعُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُهَا فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزِّقَاقِ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهَا ثُمَّ أَهْرَاقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، اس سلسلے میں وہ شام سے شراب کی مشکیں لے کر آئے، لیکن جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں بہت عمدہ شراب لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے کیسان !شراب تیرے جانے کے بعد حرام کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو بیچ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خود بھی حرام کر دی گئی ہے اور اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پس کیسان اُن مشکوں کی طرف گیا اور ان کے کونوں سے پکڑ کر ان کو بہا دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5807
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ونافعُ بن كيسان مختلف في صحبته۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 438، وفي ’’الاوسط‘‘: 3149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19168»