حدیث نمبر: 5799
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ جَمَلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: (۱) جو چیز حرام ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، (۲) کسی آدمی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئی حیلہ استعمال کر کے حرام چیز کو کسی اور چیز کی شکل دے دے، جیسےیہودیوں نے حرام چربی کو پگھلا کر اس کو دوسری شکل میں تبدیل کر لیا تھا، عربی زبان میں چربی کو ’’شَحَم‘‘ اور پگھلی ہوئی چربی کو ’’وَدَک‘‘ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5799
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2236، ومسلم: 1581 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14526»