الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهْلِ وَالتَّسَامُحِ فِي البَيْعِ وَالْإِقَالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْلٍ ذَلِكَ باب: تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھا:کبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا :نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میں جب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔
قارئین کرام! کچھ افراد تو طبعی طور پر نرم ہوتے ہیں، اگر وہ کچھ سعی کریں تو ان کا مزاج آسانی سے شریعت کے تابع ہو سکتا ہے، لیکن سخت مزاج لوگوں کو شریعت کے مطابق نرم خوئی سے متصف ہونے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی اور اس قسم کے ہر معاملے میں تکلف کر کے اپنے مزاج کو شریعت کے تابع کرنا ہو گا، نتیجتاً نہ قرضے لیٹ ہو جانے سے بے سکونی ہو گی اور نہ معاف کرنے سے معاملات رکیں گے، ایسے افراد کو یہ عقیدہ مضبوط کر لینا چاہیے کہ روزی کے اسباب کا مالک اللہ تعالی ہے، ہم خود نہیں ہیں۔