الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهْلِ وَالتَّسَامُحِ فِي البَيْعِ وَالْإِقَالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْلٍ ذَلِكَ باب: تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ الرَّجُلُ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَيْ رَبِّ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوَزُ عَنْهُ وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَغُفِرَ لَهُ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی کے حضور پیش کیاگیا، اللہ تعالی نے اس سے کہا: دنیا میں کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ذرہ برابر کوئی ایسی نیکی نہیں کی کہ جس کی امیدرکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بار یہ سوال دہرایا، تیسری مرتبہ اس نے کہا: اے میرے رب ! تونے مجھے دنیا میں وافر مال دیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے تجارتی لین دین کرتاتھا، اس میں میرا طریقہ یہ تھا کہ مالداروں پرآسانی کرتاتھااور تنگدستوں کو مہلت دیتا تھا، اللہ تعالی نے کہا: ہم تیرے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، فرشتو!میرے اس بندے سے درگزر کردو، پس اس کو معاف کر دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے۔