الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهْلِ وَالتَّسَامُحِ فِي البَيْعِ وَالْإِقَالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْلٍ ذَلِكَ باب: تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمْرَ مَالِهِ وَفِي لَفْظٍ مِنْ ثَمَرَةِ أَرْضِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ وَحَشَدْنَاهُ لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَصَبْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فَنَقَصْنَا عَلَيْهِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَاهُ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ شَيْئًا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّى لَا أَصْنَعُ خَيْرًا وَفِي لَفْظٍ تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَا شِئْتَ فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فداہوں! گزارش یہ ہے کہ ایک آدمی سے میں اور میرے بیٹے نے پھل خریدا ہے(اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کی زمین کے پھل سے)، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت دی ہے، جو دی ہے، جب ہم نے اسے جمع کیا اور ماپا تو اس سے صرف اتنی مقدار ہی حاصل ہوئی کہ جس سے صرف ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر حصول برکت کے لئے ہم کسی مسکین کو کھلا دیتے ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اس پھل میں ہمارا نقصان ہوا ہے، بہرحال ہم نے جس سے خریدا ہے، اس سے اس نقصان کے بقدر معافی کامطالبہ کیا ہے، لیکن اس نے تو قسم اٹھا لی ہے کہ وہ قیمت میں کمی نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ خیر والا کام نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ادھرکسی طرح پھل فروخت کرنے والے اس شخص کو اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیتا ہوں،نیز آپ راس المال میں سے جو چاہتے ہیں، وہ بھی کم کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیا تھا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے یہ حدیث حکم سے سنی ہے۔