حدیث نمبر: 5788
عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخٍ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ قَالَ إِنَّكَ غَبَنْتَنِي فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي قَالَ أَوَذَلِكَ يَمْنَعُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان رضی اللہ عنہ ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معاملات میں نرم خوئی والی زندگی انتہائی آسان ہے، کاش ہم اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر اس کو اختیار کر لیتے، مصیبتیہ ہے کہ جب ہم کسی شخصیت کی خاطر چند دن نرمی کا اختیار کرتے ہیں اور نتیجہ جلدی وصول نہیں ہوتا تو ہم پر مایوسی چھا جاتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ ہم سختی کے ساتھ اپنے معاملات ڈیل کریں گے، ہمیں ہمارے معاملات میں دو چیزوں نے دھوکہ دیا ہے، ایک جلد باز مزاج اور دوسرا اللہ تعالی کی ذات مقدم نہ رکھنا، یعنی اللہ تعالی کا لحاظ کرتے ہوئے نرمی کو اختیار نہ کرنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5788
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2202، والنسائي: 7/ 318 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 410»