الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ فَقَالَ لَا أَدْرِي فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! زمین کا کون سا حصہ بد ترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یہ سوال کیا، لیکن انہوں نے کہا: مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا، سو وہ چلے گئے، پھر کچھ دیریا عرصہ ٹھہرے رہے، پھر جب آئے تو کہا: اے محمد! آپ نے بد ترین قطعۂ زمین کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، پھرمیں نے اپنے ربّ سے پوچھاہے، تو اس نے کہا ہے کہ روئے زمین میں سے بد ترین حصہ بازارہیں۔
مساجد کا معاملہ تو واضح ہے کہ وہ نماز، تلاوت، اللہ کے ذکر اور عبادت کا مرکز اور صالحین بلکہ فرشتوں کی پناہ گاہ ہیں۔ رہا مسئلہ بازاروں کا تو وہ اس قسم کے مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں: جھوٹ، دھوکہ، جھوٹی قسمیں، عصر حاضر میں مرد و زن کا بدترین اختلاط اور بے پردگی، اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کرنے والے امور، شیطانوں کی کثرت جو ان مفاسد پر آمادہ کرتے ہیں۔