الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5786
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُبَّ يَمِينٍ لَا تَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ فَرَأَيْتُ فِيهَا النَّخَّاسِينَ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنی قسمیں ہیں جو اس جگہ میں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوتیں۔ پھر میں نے اس جگہ میں چوپائیوں اور غلاموں کو فروخت کرنے والوں کو دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کسی علاقے کے بارے میںیہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہاں اٹھائی جانے والی قسمیں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوں گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ پورا ہوا اور وہ جگہ خرید و فروخت کا مرکز بن گئی اوروہاں جھوٹی قسمیں اٹھائی جانے لگیں۔