الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5785
عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ بَيْعٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَعَايِشُنَا قَالَ فَقَالَ لَا خِلَابَةَ إِذًا وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تجارت تو ہمارا ذریعۂ معاش ہے، آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت ہمیں دَلّال کہا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … تجارت میں پائے جانے والے مفاسد کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرے سے اس سے منع کر دینے کا ارادہ کیا، لیکن جب صحابہ نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت تو دے دی، لیکن شرط یہ لگائی کہ تجارت کسی قسم کے دھوکے پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔