حدیث نمبر: 5784
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ كُنَّا نَبِيعُ الرَّقِيقَ فِي السُّوقِ وَفِي لَفْظٍ آخَرَ كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اسْمِنَا وَفِي لَفْظٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَحَلْفٌ فَشُوبُوهَا بِصَدَقَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا قیس بن غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (تاجروں) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں سَمَاسِر یعنی دَلّال کہا جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: ہم بازار میں غلام بیچتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہم مدینہ منورہ میں سامان فروخت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سابقہ نام کی بہ نسبت اچھا نام رکھا، ایک روایت میں ہے: ہم نے اپنے لیے جو نام تجویز کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اچھا نام رکھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت میں ناجائز قسم اور جھوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: ان بازاروں میں لغو باتیں اور جھوٹیں قسمیں عام ہوتی رہتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … ’’سَمَاسِر‘‘ عجمی زبان کا لفظ ہے، یہ لفظ عجمی تاجروں سے عربی تاجروں میں سرایت کر گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عربی لفظ ’’تاجر‘‘ سے تبدیل کر دیا۔ اوساق: وسق کی جمع ہے۔ یہ ساتھ صاع (ٹوپے) کا ہوتا ہے۔ گندم، کھجور، جو وغیرہ کی تجارت مراد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5784
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 3326، والترمذي: 1208، وابن ماجه: 2145 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16238»