الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ كُنَّا نَبِيعُ الرَّقِيقَ فِي السُّوقِ وَفِي لَفْظٍ آخَرَ كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اسْمِنَا وَفِي لَفْظٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَحَلْفٌ فَشُوبُوهَا بِصَدَقَةٍ۔ سیدنا قیس بن غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (تاجروں) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں سَمَاسِر یعنی دَلّال کہا جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: ہم بازار میں غلام بیچتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہم مدینہ منورہ میں سامان فروخت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سابقہ نام کی بہ نسبت اچھا نام رکھا، ایک روایت میں ہے: ہم نے اپنے لیے جو نام تجویز کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اچھا نام رکھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت میں ناجائز قسم اور جھوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: ان بازاروں میں لغو باتیں اور جھوٹیں قسمیں عام ہوتی رہتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔