الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5782
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تاجر برے لوگ ہیں۔ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور پھر جب (جھوٹی) قسم اٹھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … تاجر کے لیے ضروری تنبیہیہ ہے کہ وہ سچ بولے اور جھوٹی قسم سے بچے، کسی بڑی ضرورت کے پیش نظر وہ سچی قسم اٹھا سکتا ہے، لیکن سچی قسموں کی کثرت بھی درست نہیں ہے۔