الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ باب: سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5781
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے، لیکن کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جھوٹی قسموں کی وجہ سے مال میں بظاہر اضافہ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن تاجر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی برکت سے محروم ہو جاتا ہے، جبکہ بنیادی چیز اللہ تعالی کی برکت ہے، باقی سب امور فرعی اور سرسری ہیں، اگر برکت شامل حال ہو تو تھوڑا مال بھی کفایت کر جاتا ہے اور اگر برکت نہ ہو تو سرے سے مالک سکون والی زندگی ہی بسر نہیں کر سکتا۔