حدیث نمبر: 5780
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا فَقَالَ أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً قَالَ فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ قَالَ وَصَنَعْتَ كَيْفَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ !اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت میں نفع کی شرح مقرر نہیں ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3385، وابن ماجه: 2402، والترمذي: 1258، وأخرجه مختصرا و نحوه البخاري: 3642 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19579»