الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اِتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَ بَرَكَتِهَا وَرَعِيهَا باب: بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
حدیث نمبر: 5755
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید حذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں او نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ کی ایک نشیبی جگہ کا یا ایک پہاڑ کا نام جیاد ہے۔
حافظ بن حجر نے کہا کہ خطابی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں کی مذمت اس بنا پر کی کہ یہ لوگ امورِ دینیہ سے غافل ہو کر اپنے مال مویشیوں میں لگے رہتے ہیں، جس کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ سخت دل ہو جاتے ہیں۔
حافظ صاحب نے خود کہا: سکینت کو بکریوں کے مالکوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وسعت اور کثرت میں اونٹوں کے مالکوں سے کم ہوتے ہیں، اور یہی دو چیزیں فخر اور تکبر کا باعث بنتی ہیں۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۳۳، ۴۳۴)
یہ اللہ تعالی کا کوئی نظام ہے کہ جو فرق بکری اور اونٹ میں ہے کہ بکری شریف اور غیر مضرجانور ہے اور اونٹ باغی اور مضر جانور ہے، ان جانوروں کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
حافظ بن حجر نے کہا کہ خطابی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں کی مذمت اس بنا پر کی کہ یہ لوگ امورِ دینیہ سے غافل ہو کر اپنے مال مویشیوں میں لگے رہتے ہیں، جس کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ سخت دل ہو جاتے ہیں۔
حافظ صاحب نے خود کہا: سکینت کو بکریوں کے مالکوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وسعت اور کثرت میں اونٹوں کے مالکوں سے کم ہوتے ہیں، اور یہی دو چیزیں فخر اور تکبر کا باعث بنتی ہیں۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۳۳، ۴۳۴)
یہ اللہ تعالی کا کوئی نظام ہے کہ جو فرق بکری اور اونٹ میں ہے کہ بکری شریف اور غیر مضرجانور ہے اور اونٹ باغی اور مضر جانور ہے، ان جانوروں کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔