الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اِتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَ بَرَكَتِهَا وَرَعِيهَا باب: بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
حدیث نمبر: 5753
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ مسلمان آدمی کے لئے بہترین مال بکریاں ہوں، جن کو وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں چلا جائے اور فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ جائے۔
وضاحت:
فوائد: … فتنوں کے زمانے میں دین کی سلامتی کے لیے آبادی سے دور چلا جانا مستحب ہے، بشرطیکہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ ہو۔