حدیث نمبر: 5752
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ غُنَيْمَةً لِي قَالَ نَعَمْ امْسَحْ رُعَامَهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَانْتَسِئْ بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطْرِ قَالَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میرے باپ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: کہا ں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی میری کچھ بکریاں ہیں (ان کی طرف جارہا ہوں) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن ان کو صاف ستھرا کرنا، ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا، کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے، نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سر زمین کم بارش والی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ علاقے کی آب و فضا کے مطابق پالتو جانوروں کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز ان کے باڑے آرام دہ ہونے چاہئیں، نماز پڑھنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالک بکریوں کے ساتھ رہے گا اور اس طرح درندوں سے امن رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5752
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد ان شاء الله۔ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/933، والبزار: 444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9623»