الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اِتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَ بَرَكَتِهَا وَرَعِيهَا باب: بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
حدیث نمبر: 5751
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ وَتَغْدُو بِخَيْرٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام ہانی! بکر یاں پالو، کیونکہ یہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح کو خیر کے ساتھ جاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بکریاں عجیب قسم کی خیر و برکت پر مشتمل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنتی جانور قرار دیاہے، ان کے ہاں سال میں دو بار پیدائش کا سلسلہ ہوتا ہے، دو دو تین تین بچے جنم دیتی ہیں، ان کے مزاج میں عاجزی اور نرمی ہوتی ہے، ان میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ بالکل نہیں ہوتا اور ان کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے، معمولی غذا ان کے لیے کافی ہو جاتی ہے، جب چاہا ان کا دودھ دوہ لیا، ان کا گوشت انتہائی عمدہ ہوتا ہے، جبکہ ان کو ذبح کرنا اور گوشت بنانا بہت آسان ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ بکری خرگوش اور ہرن کی طرح بڑی خوبصورت اور محبت والی چیز نظر آتی ہے، مزید اگلی روایت کا بغور مطالعہ کر لیں۔