الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِّرَاعَةِ وَفَضْلِهَا باب: زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5747
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔