الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِّرَاعَةِ وَفَضْلِهَا باب: زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ۔ سیدہ ام مبشررضی اللہ عنہا، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔