حدیث نمبر: 5743
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا قَالَ بَلْ نَفْسٌ أُحْيِيهَا قَالَ عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے تھے کہ آپ ان کو زکوۃ کی وصولی پر مقر ر کریں تاکہ اس کے عوض ان کو جو اجرت ملے گی، اس سے ان کی معیشت کوسہارا مل جائے گا، مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بنو ہاشم میں سے تھے اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لیے صدقہ اور زکوۃ حرام تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات سمجھانے کے لیے تمہید کے طور نفس کے زندہ کرنے یا اس کو مارنے کی بات کی، کیونکہ اگر سیدہ حمزہ کو زکوۃ کا عامل مقرر کر دیا جاتا تو گویا اس میں ان کے نفس کی موت تھی، کیونکہ حرام رزق کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سرے سے عبادات ہی قبول نہیں ہوتیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5743
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6639»