الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَطَاءِ السُّلْطَانِ وَكَسْبِ عُمَّالِ الصَّدَقَةِ باب مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِرَاعَةِ وَفَضْلِهَا باب: بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَالَ مُجَالِدٌ هُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ وَفِي لَفْظٍ لَا حَاجَةَ لِي فِي عَمَلِكَ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوں کہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔
معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔