حدیث نمبر: 5741
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ لَيْسَ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی مسلمانوں کی مصالح سے متعلقہ امور میں مصروف ہو، وہ ان کے مالوں میں سے اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جیسے بیوی، خادم، گھر یا سواری وغیرہ، لیکن اس ضمن میں حکومتییا پرائیویٹ ادارے کی طرف سے دی گئی رخصت کے مطابق یہ سہولتیں حاصل کی جائیں گی، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے، وگرنہ وہ ملازم خائن اور دھوکے باز ٹھہرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5741
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180»