الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَطَاءِ السُّلْطَانِ وَكَسْبِ عُمَّالِ الصَّدَقَةِ باب مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِرَاعَةِ وَفَضْلِهَا باب: بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 5739
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالی بن مانگے رزق عطا کر دے تو وہ اسے قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اشراف یعنی مال کی لالچ کرنے سے کیا مراد ہے، انھوں نے کہا: تیرا اپنے نفس میں یہ خیال رکھنا کہ فلاں آدمی میری طرف فلاں چیز بھیجے گا، عنقریب مجھے فلاں چیز موصول ہو گی۔