الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ أَفْضَلِ الْكَسَبِ الْبَيْعُ وَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَ مِنْهُ كَسْبُ وَلَدِهِ باب: اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
حدیث نمبر: 5734
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو فنا کرنا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، سب سے بہتر چیز وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے، پس اس کو خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … آخری تین احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتے ہیں، لیکنیہ حکم علی الاطلاق نہیں ہے، درج ذیل بحث پر توجہ کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُور} (الشوری:۴۹) فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) ’’بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب بھی تمھیں ضرورت پڑے۔‘‘
(مستدرک حاکم:۲/۲۸۴،بیھقی:۷/۴۸۰، صحیحہ:۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر
بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
امام البانیk لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … ’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا پھرے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (الصحیحہ: ۲۵۶۴)
(مستدرک حاکم:۲/۲۸۴،بیھقی:۷/۴۸۰، صحیحہ:۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر
بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
امام البانیk لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … ’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا پھرے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (الصحیحہ: ۲۵۶۴)