الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَقِّ عَلَى الْكَسْبِ وَعَدَمِ التَّقَاعُدِ وَالتَّرْعَيْبِ فِي الْحَلَالِ مِنْهُ وَالتَّنْفِيرِ مِنَ الْحَرَامِ باب أفضل الكسب البيعُ وَعَمْلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَمِنْهُ كَسْبُ وَلَدِهِ باب: ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے،¤نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 5727
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ مِنَ الْأَرْضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسی ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔