حدیث نمبر: 5725
عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِهَاتٍ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَاقَعَهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ فَمَنْ رَعَى إِلَى جَنْبِ حِمًى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا: بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، لیکن حلال و حرام کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سارے لوگ ان کے بارے میں نا آشنا ہیں کہ آیا وہ حلا ل ہیں یا وہ حرام، جس نے ان امور کو ترک کر دیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی اور جوان میں گھس گیا، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کی چراگاہ کے نزدیک جانور چر ائے گا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں منہ ماری بھی کردیں، ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، انسان میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہوجاتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔

وضاحت:
فوائد: … قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالی کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کے لیے جواز پیدا کرے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔
دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، اس حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: ’’اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵)
حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5725
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2051، ومسلم: 1599، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18558»