الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَقِّ عَلَى الْكَسْبِ وَعَدَمِ التَّقَاعُدِ وَالتَّرْعَيْبِ فِي الْحَلَالِ مِنْهُ وَالتَّنْفِيرِ مِنَ الْحَرَامِ باب أفضل الكسب البيعُ وَعَمْلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَمِنْهُ كَسْبُ وَلَدِهِ باب: ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے،¤نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 5723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال مال حاصل کررہا ہے یا حرام۔
وضاحت:
فوائد: … کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلمانوں کی کثیر تعداد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو پورا کر دیا ہے، سرے سے لوگ حلال و حرام کے سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، بظاہر عبادت گزار طبقہ سے متعلقہ افراد میں بھییہ صلاحیت کم ہو گئی ہے، آپ درج ذیل صورتوں پر غور کریں: بینک کی ملازمت، انشورنس کمپنی کی ملازمت، تمباکو اور دوسری نشہ آور چیزوں کا کا روبار، واضح سود اور رشوت والے معاملات، خرید و فروخت کے وقت عیب چھپانا اور جھوٹ بولنا، شیو اور تھریڈنگ اور پلکنگ کی کمائی، شیو کے آلات کا کاروبار، کتوں کی قیمت، خریدی ہوئی چیز کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنا، ذخیرہ اندوزی، سونے کی خرید و فروخت میں ربا الفضل، بیوٹی پارلر کے جھانسے میں کئی حرام امور کا ارتکاب، فون اور موبائل کا بیلنس اور بجلی اور گیس چوری کرنا، کمپیوٹر اور ٹی وی وغیرہ کے ذریعے واضح حرام امور کا گھروںمیں اہتمام کرنا، جوا پر مشتمل واضح صورتیں، کئی بیماریوں میں آپریش کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کا مال و زر حاصل کرنے کے لیے آپریشن کر دینا، اکثر لوگوں کا اپنی ڈیوٹی اورذمہ داری کا حق ادا نہ کرنا۔
ہمارے معاشرے میں درج بالا حرام صورتیں نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ہر دوسرا شخص ان کے استعمال کو اپنا حق سمجھنے لگ گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں درج بالا حرام صورتیں نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ہر دوسرا شخص ان کے استعمال کو اپنا حق سمجھنے لگ گیا ہے۔