حدیث نمبر: 5722
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو حرام مال کما کر اس کو خرچ کرتا ہے، وہ اس سے قبول نہیں ہوتا اور ایسے مال سے جو صدقہ کرتا ہے، وہ بھی قبول نہیں ہوتا اور ایسا مال جب اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زاد راہ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی کے ذریعے ختم کرتا ہے، بیشک ایک خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت سنداً تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جتنے امور کو بیان کیاگیا ہے، وہ شریعت کے مصدقہ اصولوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5722
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد البجلي۔ أخرجه الحاكم: 2/ 447، والبزار: 3562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3672»