حدیث نمبر: 5721
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میں اس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔

وضاحت:
فوائد: … مسئلہ انبیاء و رسل کا ہو یا ان کے امتیوں کا، دونوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ حلال رزق کا اہتمام کریں، بصورتِ دیگر مسلمان کی عاجزانہ پکار کو بھی ردّ کر دیا جاتاہے، عصر حاضر کی ایک پریشانییہ بھی ہے کہ لوگ حلال و حرام کے درمیان تمیز نہیں کرتے اور جس کا جس مقام پر جو داؤ لگتا ہے، وہ شکار کر لینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5721
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8330»