الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَقِّ عَلَى الْكَسْبِ وَعَدَمِ التَّقَاعُدِ وَالتَّرْعَيْبِ فِي الْحَلَالِ مِنْهُ وَالتَّنْفِيرِ مِنَ الْحَرَامِ باب أفضل الكسب البيعُ وَعَمْلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَمِنْهُ كَسْبُ وَلَدِهِ باب: ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے،¤نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 5720
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ بِهِ ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار میں فروخت کے لیے لا رکھے اور اسی سے دولت کما کر اپنی ذات پرصرف کرے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو حسب ِ استطاعت یہی کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں سے سوال کرنے سے بچے اور اپنی آمدن کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرے، یہی غیرت و حمیت اور خیر و بھلائی والی زندگی ہے، جو مسلمان اس معاملے میں دوسرے پر انحصار کر لیتا ہے، اس کا وقار ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔