الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمُضَاعَفَةِ أَجْرٍ فَاعِلِهَا باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ بَلَى۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرے پر مسرت دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ بات آپ کو راضی نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: آپ کی امت کا جو آدمی آپ پر ایک بار درود پڑھے گا، میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور آپ کی امت کا جو آدمی آپ کے لیے ایک بار سلامتی کی دعا کرے گا، میں اس پر دس سلامتیاں نازل کروں گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، میں راضی ہوں۔