حدیث نمبر: 5708
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ بَلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرے پر مسرت دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ بات آپ کو راضی نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: آپ کی امت کا جو آدمی آپ پر ایک بار درود پڑھے گا، میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور آپ کی امت کا جو آدمی آپ کے لیے ایک بار سلامتی کی دعا کرے گا، میں اس پر دس سلامتیاں نازل کروں گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، میں راضی ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 3/44 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16476»