الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5702
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ قَالَ وَكِيعٌ فِتْنَةُ الصَّدْرِ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَذَكَرَ وَكِيعٌ الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخیلی، بزدلی، عذابِ قبر، ذلیل ترین عمر اور سینے کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔ امام وکیع نے کہا: سینے کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس نے مذکورہ برائیوں میں سے کسی کاارتکاب کیا ہو، لیکن ابھی تک توبہ نہ کی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سینے کے فتنے سے مراد دل کی سختی اور دنیا کی محبت ہے۔