الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، لَا أُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِک (اے اللہ! میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔