الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَدَدْتُ يَدِي فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک رات کو گھبرا گئی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، پس میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر لگا، وہ گڑھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، … أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری (رحمت کی) پناہ چاہتا ہوں تیرے (عذاب) سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔