الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قُلْتُ أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ وَفِي لَفْظٍ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ وَفِي لَفْظٍ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي۔ فروہ بن نوفل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتائیں، ممکن ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکاروں اور اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ، (اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں، جو میں نے کیا ہے اور اس کام کے شرّ سے بھی، جو میں نے نہیں کیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْہٗ نَفْسِیْ۔ (اے اللہ! میں اس کام کے شرّ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جو کام میرے نفس نے کیا ہے۔