الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی مخفی ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو:اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ (اے اللہ! بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے)۔