حدیث نمبر: 5696
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی مخفی ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو:اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ (اے اللہ! بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے)۔

وضاحت:
فوائد: … شرک کی دو قسمیں ہیں: (۱) شرک ِاکبر،جس سے کفر لازم آتا ہے۔ (۲) شرکِ اصغر، اس سے مراد ریاکاری ہے۔ اس حدیث میں شرک اصغر سے منع کیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5696
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي علي الكاھلي، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 337، والطبراني في الاوسط : 3503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19835»