الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5693
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ قَالَ سُفْيَانُ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بدبختی کے پانے سے، دشمنوں کی خوشی سے، برے فیصلے سے یا مشقت میں ڈالنے والے فیصلے سے۔ امام سفیان کہتے ہیں: ان میں سے ایک چیز مجھ سے زیادہ ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ علم نہیں ہے کہ وہ کون سی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس جگہ جعد القضائ کے الفاظ ہیں جن کے معانی ترجمہ میں کیے گئے ہیں، جبکہ بخاری ومسلم میں ہے: جہد البلائ اس کا معنی ہے: آزمائش کی مشقت۔ (عبداللہ رفیق)