الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5691
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ هَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا أَوْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ ہَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا، أَوْ أَنْ یَتَخَبَّطَنِی الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ غم، یا ھَمّ کی وجہ سے، یا غرق ہو کر مروں، یا شیطان موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے، یا میں ڈنگ لگنے کی وجہ سے مروں)۔
وضاحت:
فوائد: … غم اور ھَمّ میں کیا فرق ہے؟